روز روز ہوتی ہے لڑائی، سوچ سے دل کی یہاںکبھی سوچ جیت جاتی ہےکبھی دل ہار جاتا ہےمیں انتظار کرتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ کبھییہ لرائی اس کے ہاں بھی ہو، کچھ تو نتیجہ ہوکبھی غلطی سے دل جیت جائے تو دل کی ہیاس جیت کو کوئی دل والا محسوس کرے اوراسی احساس کے ساتھ ایک حساس دل بھیجیت جائے اور خوشی سے دو دل مل جائیںمل کر جیت منائیں اور بس اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔(دل کی بات ہے ، قافیہ ردیف کی اغلاط کےلئے معذرت)۔۔۔۔۔۔فہیم
No comments:
Post a Comment