معلوم ہے یہ تجھ کو بھی، کہ محبت تھی
معلوم ہے مجھ کو کے تمھیں محبت تھی
تمہیں تمھاری انا نےاس قدر، اور مجھ کو
میری بے صبری نے بار بار اس طرح ٹوکا
میں یہ جانتا ہوں تمھیں اب بھی محبت ہے
یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھے بھی محبت ہے
یہ فاصلے کم نہ ہوں گے ہمارے درمیاں
میری یہ بات غور سے سن میری جاں
کوئی اور راستہ محبت کا نکال لے اور
اپنے دل پے بڑے بڑے سنگ ڈال لے اور
کیوں جلاتے ہو اپنے من کو اس طرح تم؟
مجھ سےاور انتظار نہیں ہوتا، کچھ وقت
اپنی اس انا کو ہمیش ختم کرنے کے لئے
اپنے اس دل پے دایم مرہم کرنے کے لئے
تھوڑا ہی سہی پر کچھ تو وقت نکال لے
فہیم نے کیا کرنا ہے عداوتوں کو لے کر؟
محبت دے مجھے باقی سارا جہاں لے
فہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment