Wednesday, August 6, 2014
Zarori tha (Back to love) Rahat Fateh Ali Khan
لفظ کتنے ہی تیرے پیروں سے لپٹے ہوں گے
تو نے جب آخری خط میرا جلایا ہو گا
تو نے جب پھول کتابوں سے نکالے ہوں گے
دینے والا بھی تجھے یاد تو آیا ہو گا
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ ہم دونوں طوافء آرزو کرتے
مگر پھر آرزؤں کا بکھرنا بھی ضروری تھا
بتاؤ یاد ہے تم کو وہ جب دل کو چرایا تھا
چرائی چیز کو تم نے خدا کا گھر بنایا تھا
وہ جب کہتے تھے میرا نام تم تسبح میں پڑھتے ہو
محبت کی نمازوں کو قضا کرنے سے ڈرتے ہو
مگر اب یاد آتا ہے وہ باتیں تھیں محض باتیں
کہیں باتوں ہی باتوں میں مکرنا بھی ضروری تھا
وہی ہیں صورتیں اپنی وہی میں ہوں وہی تم ہو
مگر کھویا ہوا ہوں میں مگن تم بھی کہیں گم ہو
محبت میں دغا کی تھی سو کافر تھے سو کافر ہیں
ملیں ہیں منزلیں پھر بھی مسافر تھے مسافر ہیں
تیرے دل کے نکالے ہم کہاں بھٹکے کہاں پہنچے
مگر بھٹکے تو یاد آیا بھٹکنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ ہم دونوں طوافء آرزو کرتے
مگر پھر آرزؤں کا بکھرنا بھی ضروری تھا
تیری انکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment